Wednesday, 16 February 2022

ٹوٹے دل کا جہاں نہیں ہوتا

 ٹوٹے دل کا جہاں نہیں ہوتا

عشق جائے اماں نہیں ہوتا

لوگ جاتے ہی کیوں ہیں مسجد میں

تُو بتا دے کہاں نہیں ہوتا

ہر جگہ وہ نظر ہے آتا کیوں

جس کا کوئی نشاں نہیں ہوتا

چوٹ دل پر وہاں سے لگتی ہے

جس طرف کا گماں نہیں ہوتا

اک غزل کے ہزار شعروں میں

ہجر کا دکھ بیاں نہیں ہوتا


امجد تجوانہ

No comments:

Post a Comment