دن جب بھی گھیر لیں تمہیں رنج و ملال کے
رکھیو نہ دوستو! کہیں آنسو سنبھال کے
اب وقت ہے کہ سجدہ گہیں تر کرو تمام
سجدوں میں گِر کے پیش کرو، دل نکال کے
ہر آن ایک رنگِ قیامت ہے الامان
مولا دن آئیں زخموں کے پھر اندمال کے
اک سانس تو نہ لے سکے اذنِ خدا کے بن
انبار بھی ہوں گر تِرے مال و منال کے
معمولی وائرس نے کیا سب جہاں کو قید
باندھے ہوں پاؤں جیسے کسی نونہال کے
جھک جاؤ عاجزی سے سمجھ لو کہ ہیچ ہے
کِبر و غرور سامنے اک ذوالجلال کے
پیشانیاں ہوں خاک میں خوفِ خدا کے ساتھ
کینوں سے پاک، خوب ہوں سجدے کمال کے
وہ رنگ ہوں احد کے، احد کی ہی تان ہو
جیسے بلند بانگ تھے نعرے بلال کے
اشکوں سے اب وضو کیے عامر ہے ملتجی
آئیں نہ اس کے بعد کبھی دن وبال کے
عامر حسنی
No comments:
Post a Comment