سکۂ لمس گِرا، کاسۂ تن جلنے لگا
اک دِیا سا سرِ محرابِ بدن جلنے لگا
آگ ایسی تھی لحد میں بھی مِرے ساتھ رہی
شعلہ اک دل سے اٹھا اور کفن جلنے لگا
خوبزاروں کی طرف جاتی ہوئی آنکھوں نے
تیرا جب نام پکارا،۔ تو دہن جلنے لگا
انگلیاں اس کی چراغوں کی لویں تھیں گویا
یوں چھوا اس نے، مِرا سارا بدن جلنے لگا
جانے کیا بات تھی یونس شبِ تنہائی میں
بجھ گئے چاند ستارے تو یہ تن جلنے لگا
یونس امین
No comments:
Post a Comment