بچھڑ کے بھی مجھے تجھ سے یہ بدگمانی ہے
کہ میری یاد کبھی تو تجھے بھی آنی ہے
نہ پوچھ حال کسی بھی اداس چہرے کا
ہر ایک شخص کی اپنی الگ کہانی ہے
ہر ایک شخص کو اپنا بنا کہ دیکھ لیا
ملیں گے اب نہ کسی سے یہ دل میں ٹھانی ہے
شجر اداس ہے چڑیوں کے چہچہے گم صم
کہ تِرے بعد یہ تنہا سی زندگانی ہے
نہ دوستی ہے سحر سے نہ دشمنی شب سے
یونہی یہ زندگی اب تو حسن نبھانی ہے
حسن رضوی
No comments:
Post a Comment