Monday, 14 February 2022

بچھڑ کے بھی مجھے تجھ سے یہ بدگمانی ہے

بچھڑ کے بھی مجھے تجھ سے یہ بدگمانی ہے

کہ میری یاد کبھی تو تجھے بھی آنی ہے

نہ پوچھ حال کسی بھی اداس چہرے کا

ہر ایک شخص کی اپنی الگ کہانی ہے

ہر ایک شخص کو اپنا بنا کہ دیکھ لیا

ملیں گے اب نہ کسی سے یہ دل میں ٹھانی ہے

شجر اداس ہے چڑیوں کے چہچہے گم صم

کہ تِرے بعد یہ تنہا سی زندگانی ہے

نہ دوستی ہے سحر سے نہ دشمنی شب سے

یونہی یہ زندگی اب تو حسن نبھانی ہے


حسن رضوی

No comments:

Post a Comment