Thursday, 10 February 2022

جنہیں جو لگتا ہوں سرکار سمجھ لیتے ہیں

جنہیں جو لگتا ہوں سرکار سمجھ لیتے ہیں

کچھ عدو مجھ کو،، کئی یار سمجھ لیتے ہیں

گو غلط ہی سہی اس واسطے دیتا ہوں جواب

خامشی کو یہاں اقرار سمجھ لیتے ہیں

شہر کا شہر مِری بات سے خائف نکلا

میں سمجھتا تھا کہ دو چار سمجھ لیتے ہیں

اس طرح تو کبھی شیریں نہیں ملنے والی

آپ دیوار کو دیوار سمجھ لیتے ہیں

وقعتِ خُلق، نہ کردار کی قیمت عزمی

لوگ زر کو یہاں معیار سمجھ لیتے ہیں


عزم الحسنین عزمی

No comments:

Post a Comment