Sunday, 2 October 2022

دل ہے کہ مرا سوز محبت میں پھنسا ہے

 کافی کا ٹائٹل

جند سولاں دے وات نیں

ڈتڑی بِرہوں برات نیں

کڈیں ڈینہہ ڈوکھاندا سر تے

کڈیں غماں دی رات نیں

اردو ترجمہ

دل ہے کہ مِرا سوز محبت میں پھنسا ہے

یہ عشق کی سرکار سے انعام ملا ہے

ہے سر پہ کبھی چھایا ہوا روزِ مصیبت

ڈالی ہوئی شب نے کبھی آفت کی ردا ہے

آتس کی طرح جلتا ہوا میرا بچھونا

شب گزری کہ در صبحِ قیامت کا کُھلا ہے

اس نے نہ کبھی میری طرف جھانک کے دیکھا

اک عمر کا حصہ مِرا رونے میں کٹا ہے

محبوب ہے مسجود محبت کے دلوں کا

سچ یہ ہے کہ عشّاق کا وہ قبلہ نما ہے

دیکھو تو ذرا غور سے احمدؐ کو احد سے

ذات اور صفات ایک ہیں، کیا فرق رہا ہے

ہے صوم و صلوٰۃ اپنی مئے حُسن پرستی

آزادی و رِندی مِری قسمت کا لکھا ہے

ہے راستہ دُشوار بہت فقر و فنا کا

ہر گام پہ آفات کا اک جال بچھا ہے

سرد آہ مِری، ہار مِرے اشک رواں کے

یہ عشق کی سوغات ہے، تحفہ ہے، عطا ہے


خواجہ غلام فرید کی شاعری

اردو ترجمہ: کشفی ملتانی

No comments:

Post a Comment