وہ بے کلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیں
تمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیں
رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت
تمہاری زُلف سے خاطر کو پیچ و تاب نہیں
پِلانا تول کے بادۂ مغاں خدا کے لیے
یہ دن شرف کے ہیں میزاں میں آفتاب نہیں
فرار کیوں نہ ہو ہر روز جاں نثار اک ایک
حضور! آپ کی وہ دولتِ شباب نہیں
تمہارے زُلف کی تصویر کیا کرے سیراب
خطا معاف ہو، ہم تشنۂ سراب نہیں
تِری خبر کے لیے دیکھتے ہیں سب اخبار
مطالعہ میں کسی کے کوئی کتاب نہیں
نسیم پی گئے اب میکدوں میں ہے کیا خاک
دوا کے واسطے لندن میں بھی شراب نہیں
نسیم میسوری
No comments:
Post a Comment