Saturday, 4 May 2024

میری آواز پھر نہ آئے گی

میں دائرے پر پڑا ہوا

اپنے خوں کے دھبّوں کو چاٹتا ہوں

کہ میرے ہونے کا سارا الزام میرے سر ہے

لبوں کی دہلیز پر مِری روح کب سے فریاد کر رہی ہے

میں اپنے سینے میں جل رہا ہوں

میں اپنی آنکھوں میں بُجھ رہا ہوں

یہ شاہراہوں کا حادثہ ہے مگر کسی کو خبر نہیں ہے

مجھے بچا لو، مجھے بچا لو

ہجومِ آدم جواب دے

کیا یہ کوئی صحرا ہے،  شہر کی رہگزر نہیں ہے؟

میں پھر نہ آؤں گا

میری آواز پھر نہ آئے گی


جون ایلیا

No comments:

Post a Comment