جون گزشت وقت کی حالتِ حال پر سلام
اس کے فراق کو دعا، اس کے وصال
میرا ستم بھی تھا کرم، تیرا کرم بھی تھا ستم
بندگی تیری تیغ کو اور تِری ڈھال پر سلام
سود و زیاں کے فرق کا اب نہیں ہم سے واسطہ
صبحِ طرب کو کورنش، شامِ ملال پر سلام
اب تو نہیں ہے لذتِ ممکنِ شوق بھی نصیب
روز و زب زمانۂ شوقِ محال پر سلام
ہجر سوال کے ہیں دن، ہجر جواب کے ہیں دن
اس کے جواب پر سلام، پانے سوال پر سلام
جانے وہ رنگِ مستئ خواب و خیال کیا ہوئی
عشرتِ خواب کی ثنا، عیشِ خیال پر سلام
اپنا کمال تھا عجب، اپنا زوال تھا عجب
اپنے کمال پر درود، اپنے زوال پر سلام
اس کے فراق کو دعا، اس کے وصال
میرا ستم بھی تھا کرم، تیرا کرم بھی تھا ستم
بندگی تیری تیغ کو اور تِری ڈھال پر سلام
سود و زیاں کے فرق کا اب نہیں ہم سے واسطہ
صبحِ طرب کو کورنش، شامِ ملال پر سلام
اب تو نہیں ہے لذتِ ممکنِ شوق بھی نصیب
روز و زب زمانۂ شوقِ محال پر سلام
ہجر سوال کے ہیں دن، ہجر جواب کے ہیں دن
اس کے جواب پر سلام، پانے سوال پر سلام
جانے وہ رنگِ مستئ خواب و خیال کیا ہوئی
عشرتِ خواب کی ثنا، عیشِ خیال پر سلام
اپنا کمال تھا عجب، اپنا زوال تھا عجب
اپنے کمال پر درود، اپنے زوال پر سلام
جون ایلیا
No comments:
Post a Comment