Sunday, 8 November 2015

باعث ننگ محبت کی پزیرائی ہے

باعثِ ننگِ محبت کی پزیرائی ہے
ان کو ہر گام پہ اندیشۂ رسوائی ہے
ہم بھی دیکھیں گے کہاں تک غمِ تنہائی ہے
ہم نے بھی ترکِ محبت کی قسم کھائی ہے
آپ رسوائی کے ڈر سے نہیں ملتے ہیں تو کیا
لیکن اب مل کے نہ ملنے میں بھی رسوائی ہے
جذبۂ عشق کہاں، ہستئ موہوم کہاں
تیری نظروں کی یہ سب حوصلہ افزائی ہے
جی رہا ہوں نگہِ ناز کی جنبش پہ شکیلؔ
زیست آئینۂ اعجازِ مسیحائی ہے

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment