باعثِ ننگِ محبت کی پزیرائی ہے
ان کو ہر گام پہ اندیشۂ رسوائی ہے
ہم بھی دیکھیں گے کہاں تک غمِ تنہائی ہے
ہم نے بھی ترکِ محبت کی قسم کھائی ہے
آپ رسوائی کے ڈر سے نہیں ملتے ہیں تو کیا
جذبۂ عشق کہاں، ہستئ موہوم کہاں
تیری نظروں کی یہ سب حوصلہ افزائی ہے
جی رہا ہوں نگہِ ناز کی جنبش پہ شکیلؔ
زیست آئینۂ اعجازِ مسیحائی ہے
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment