Saturday, 17 December 2016

تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر

تقدیر پہ شاکر رہ کر بھی یہ کون کہے تدبیر نہ کر
وا باب اجابت ہو کہ نہ ہو زنجیر ہلا تاخیر نہ کر
غم بڑھنے دے اے دل اور ذرا جانچ آہ کی بے تاثیر نہ کر
ہے خواب ادھورا آپ ابھی بے سمجھے غلط تعبیر نہ کر
جب ظلم کا بدلہ ظلم ہوا مظلوم کا حق کچھ بھی نہ رہا
دے درد ہی میں لذت یا رب نالے کو عطا تاثیر نہ کر
ہو لاکھ کمان کڑی قاتل کچھ جذب نشانے میں بھی ہے
بازو کے بل پہ نظر کر کے اندازۂ زخم تیر نہ کر
اب تک جو نگاہیں سیدھی ہیں ممکن ہے کل یہ پلٹ جائیں
جو کرنا ہو کرے ایسے میں کس سوچ میں ہے تاخیر نہ کر
پیمان محبت ختم ہوا اب ذکر سے اس کے فائدہ کیا
منہ بکھری کڑیوں کے نہ ملا تیار نئی زنجیر نہ کر
الفت کے عہد محکم میں بودے کاغذ کی ضمانت کیا
یہ دل سے دل کی باتیں ہیں رکھ یاد فقط تحریر نہ کر
ہر دل ہے حیات کا سرمایہ ہر دل میں جوش محبت کا
تو آرزوؔ اور کہے گا کیا بس رہنے بھی دے تقریر نہ کر

آرزو لکھنوی

No comments:

Post a Comment