Saturday, 17 December 2016

جی چاہے تو شیشہ بن جا جی چاہے پیمانہ بن جا

جی چاہے تو شیشہ بن جا، جی چاہے پیمانہ بن جا
شیشہ پیمانہ کیا بننا، مۓ بن جا، مۓ خانہ بن جا
مۓ بن کر، مۓ خانہ بن کر، مستی کا افسانہ بن جا
مستی کا افسانہ بن کر، ہستی سے بے گانہ بن جا
ہستی سے بے گانہ ہونا، مستی کا افسانہ بننا
اس ہونے سے، اس بننے سے، اچھا ہے دیوانہ بن جا
دیوانہ بن جانے سے بھی، دیوانہ ہونا اچھا ہے
دیوانہ ہونے سے اچھا، خاکِ درِ جانانہ بن جا
خاکِ درِ جاناناں کیا ہے، اہلِ دل کی آنکھ کا سُرمہ
شمع کے دل کی ٹھنڈک بن جا، نورِ دلِ پروانہ بن جا
سیکھ ذہیؔن کے دل سے جلنا، کاہے کو ہر شمع پہ جلنا
اپنی آگ میں خود جل جائے، تو ایسا پروانہ بن جا

ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی

No comments:

Post a Comment