Saturday, 17 December 2016

میں ہوش میں ہوں تو تیرا ہوں دیوانہ ہوں تو تیرا ہوں

میں ہوش میں ہوں تو تیرا ہوں، دیوانہ ہوں تو تیرا ہوں
ہوں رازِ ازل تو تیرا ہوں، افسانہ ہوں تو تیرا ہوں
برباد کِیا، برباد ہوا،۔۔ آباد کِیا، آباد ہوا
ویرانہ ہوں تو تیرا ہوں، کاشانہ ہوں تو تیرا ہوں
تُو میرے کیف کی دنیا ہے، تُو میری مستی کا عالم 
پیمانہ ہوں تو تیرا ہوں، مۓ خانہ ہوں تو تیرا ہوں
ہر ذرہ ذہینؔ کی ہستی کا، تصویر ہے تیری سر تا پا
او کعبۂ دل ڈھانے والے! بت خانہ ہوں تو تیرا ہوں

ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی

No comments:

Post a Comment