ہوں میں ہی پردہ، میری نظر ہی نقاب ہے
تُو ورنہ سو حجاب میں بھی بے حجاب ہے
تیری نگاہ سے تجھ کو دیکھا کریں گے ہم
تعبیر اپنی دید کی، نادیدہ خواب ہے
لازم ہے حسن کے لیے تمکین و ناز بھی
جانچا جو موتیوں کو تو آنسو نظر پڑے
دیکھا جو غور سے تو سکونِ اضطراب ہے
حد سے گزر گیا ہے جنونِ نگاہِ شوق
ہر ذرہ آج حسن میں تیرا جواب ہے
اے دوست! تیرے جلوۂ بے دِید کے نثار
محروم، چشمِ شوق ہے، دل کامیاب ہے
دیوار و در کو ان کے تصور میں پوجنا
کیا یہ بھی اے نگاہِ محبت! ثواب ہے؟
سجدے بچھا رہے ہیں ہر اک رہگزر میں ہم
محوِ خرامِ ناز وہ مستِ شباب ہے
مانا کہ انتخاب ہے تُو کائنات میں
دل کو یہ ناز ہے کہ ترا انتخاب ہے
میں بھی کسی کی موجِ تبسم ہوں اے ذہین
دنیا میری نگاہ میں رقصِ حباب ہے
ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی
No comments:
Post a Comment