Saturday, 17 December 2016

پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں

پیوں ہی کیوں جو برا جانوں اور چھپا کے پیوں
میں وہ نہیں کہ نگاہیں بچا بچا کے پیوں
مٹا دیے ہیں سب احساس اف رے ذوقِ شراب
سرور کم نہ ہو، ترشی بھی گر ملا کے پیوں
گُنہ پہ تہمت بے لذتی نہ رکھ زاہد
مزہ نہ آئے تو کیوں منہ بنا بنا کے پیوں
یہ تشنگئ شہادت کا اقتضا اب ہے
کہ آبِ تیغِ ستم زہر میں بجھا کے پیوں
گلے میں لگتی ہے افراطِ شوق سے پھانسی
پڑے نہ حلق میں پھندا تو ڈگڈگا کے پیوں
ہے ایک ساغرِ دل اور ہزار رنگ کی مے
نہ ہو جو گھر میں تو بازار سے منگا کے پیوں
بھروسہ کر کے میں اپنے رحیم پر واعظ
مزہ تو جب ہے کہ تجھ کو جلا جلا کے پیوں
طلب سے عار ہے اتنی کہ پیاس گر نہ بجھے
جگر کے خون کو پانی بنا بنا کے پیوں
نگاہِ شوق مری روح کھینچ لیتی ہے
نہیں وہ رِند کہ ساغر سے منہ لگا کے پیوں
یہ شے کہ جس سے نگاہوں کو رشک، دل کو سرور
چھپا چھپا کے انڈیلوں، دکھا دکھا کے پیوں
گناہ گار سہی، چور میں نہیں زاہد
ہے یہ بھی کفر کہ کعبے سے منہ پھرا کے پیوں
نہ رِندِ تنگ نظر آرزوؔ نہ تنہا خور
جو زہر بھی ہو میسر تو میں پلا کے پیوں

آرزو لکھنوی

No comments:

Post a Comment