Friday, 16 December 2016

سمندر آنکھ میں اترا ہوا ہے

سمندر آنکھ میں اترا ہوا ہے
خدا جانے یہ دل کو کیا ہوا ہے
تمہاری یاد کے گھاؤ کو کھولا
لگا کہ، آج ہی پیدا ہوا ہے
کہانی میں جہاں دو راستے تھے
وہ صفحہ بخت نے پھاڑا ہوا ہے
یہ میری بد دعا ہرگز نہیں تھی
سنا ہے اس کے گھر بیٹا ہوا ہے
اداسی سسکیوں سے لڑ رہی ہے
اگرچہ جو ہوا، اچھا ہوا ہے
جہنم کی ضرورت کیا تھی مولا
زمیں پر ہجر جو رکھا ہوا ہے
اشاروں سے کِیا ہے قیسؔ ماتم
مقدر گود میں سویا ہوا ہے

شہزاد قیس

No comments:

Post a Comment