سمندر آنکھ میں اترا ہوا ہے
خدا جانے یہ دل کو کیا ہوا ہے
تمہاری یاد کے گھاؤ کو کھولا
لگا کہ، آج ہی پیدا ہوا ہے
کہانی میں جہاں دو راستے تھے
یہ میری بد دعا ہرگز نہیں تھی
سنا ہے اس کے گھر بیٹا ہوا ہے
اداسی سسکیوں سے لڑ رہی ہے
اگرچہ جو ہوا، اچھا ہوا ہے
جہنم کی ضرورت کیا تھی مولا
زمیں پر ہجر جو رکھا ہوا ہے
اشاروں سے کِیا ہے قیسؔ ماتم
مقدر گود میں سویا ہوا ہے
شہزاد قیس
No comments:
Post a Comment