معصوم بستیوں کو سمندر نِگل گیا
سیلاب کا بھی زور غریبوں پہ چل گیا
پانی نے ہر مکان کو ہموار کر دیا
اک رات میں حویلی کا نقشہ بدل گیا
دریا بہا کے لے گیا گڑیا کا کل جہیز
چاول، اناج، دالیں، مربے، اچار، گڑ
اک سال کا تھا رزق جو پانی میں گھل گیا
کینو، کجھور، موسمی، امرود، آم، سیب
پھل صبر کا ہی رہ گیا، باقی تو پھل گیا
مٹی کے کچھ کھلونے بھی مٹی میں مل گئے
ممتا کی آرزو کا جنازہ نکل گیا
کچے گھروں کی سمت بہاؤ کو موڑ کر
صد شکر شہر ڈوبنے کا خطرہ تو ٹل گیا
پرکھوں کی آج ہم کو بہت یاد آئی قیسؔ
جن کی لحد بھی پانی کا ریلا نِگل گیا
شہزاد قیس
No comments:
Post a Comment