Friday, 16 December 2016

قبر میں زندہ گاڑ دیتا ہے

قبر میں زندہ گاڑ دیتا ہے
صبر، اینٹیں اکھاڑ دیتا ہے
عشق پرچھائیں جس پہ آ جائے
دو جہاں چھوڑ چھاڑ دیتا ہے
صرف اک دل کا رونا روتے ہو
غم تو بستی اجاڑ دیتا ہے
تتلیاں چھوڑنے سے پہلے سخی
پنکھ قدرے اکھاڑ دیتا ہے
شوق ’’ہل من مزید‘‘ کہتا ہے
عشق، دامن کو جھاڑ دیتا ہے
وقت سے تین، پانچ مت کرنا
وقت، حلیہ بگاڑ دیتا ہے
لکھ کے دل بیتیاں لہو سے قیسؔ
خشک ہوتے ہی پھاڑ دیتا ہے

شہزاد قیس

No comments:

Post a Comment