Friday, 16 December 2016

ہر ستم ایک دم دسمبر میں

ہر ستم ایک دم دسمبر میں
جم سے جاتے ہیں غم دسمبر میں
سال بھر اس لیے میں رویا ہوں
دل بھرے کم سے کم دسمبر میں
یادیں چھٹی منانے آئیں تھیں
گھر سے نکلے نہ ہم دسمبر میں
ہر شجر پر خزاں نے گاڑ دیا
ایک اجڑا علم دسمبر میں
برف کی کِرچیاں ہیں پلکوں پر
آہ! یہ چشمِ نم دسمبر میں
دیکھ کر مارا مارا چڑیا کو
شاخ تھی قدرے خم دسمبر میں
لمبی راتوں کا فیض ہے شاید
ضم ہوۓ غم میں غم دسمبر میں
جوہرِ اشک سے بغیر الفاظ
ڈائری کی رقم دسمبر میں
برف نے رفتہ رفتہ ڈھانپ دیئے
تین سو دس قدم دسمبر میں
ریڑھ کی ہڈی تک اتر آئے
سرد مہری، الم دسمبر میں
لیلیٰ سے بڑھ کے موت اچھی لگی
قیسؔ رب کی قسم دسمبر میں

شہزاد قیس

No comments:

Post a Comment