مجھے بیخودی یہ تُو نے بھلی چاشنی چکھائی
کسی آرزو کی دل میں نہیں اب رہی سمائی
نہ حذر ہے نے خطر ہے نہ رِجا ہے نہ دعا ہے
نہ خیالِ بندگی ہے نہ تمنائے خدائی
نہ مقامِ گفتگو ہے نہ محلِ جستجو ہے
نہ مکیں ہے نے مکاں ہے نہ زمیں ہے نے زماں ہے
دل بے نوا نے میرے جہاں چھاؤنی ہے چھائی
نہ وصال ہے نہ ہجراں نہ سرور ہے نہ غم ہے
جسے کہیۓ خوابِ غفلت سو وہ نیند ہم کو آئی
من و تو اٹھے جہاں ہوں ہوسیں وہاں کہاں ہوں
جو دوئی کے تھے لوازم سو رہائی ان سے پائی
یہاں میں رہا ہوں جب تو سخنِ نیازؔ بولوں
سنو گے زبانِ نے سے وہی جو کہے گا نائی
شاہ نیاز بریلوی
انتہائی خوبصورت کلام کیا کہنے
ReplyDeleteماشااللہ سبحان اللہ
ReplyDeleteواہ بہت خوب
ReplyDeleteعابدہ پروین کی زبان سے اور بھی خوبصورت ہو گئی ہے۔
واہ۔۔ ہمیشہ سے ہی خمار آگیں
ReplyDelete