Wednesday, 14 December 2016

مجھے بے خودی یہ تو نے بھلی چاشنی چکھائی

مجھے بیخودی یہ تُو نے بھلی چاشنی چکھائی
کسی آرزو کی دل میں نہیں اب رہی سمائی
نہ حذر ہے نے خطر ہے نہ رِجا ہے نہ دعا ہے
نہ خیالِ بندگی ہے نہ تمنائے خدائی
نہ مقامِ گفتگو ہے نہ محلِ جستجو ہے
نہ وہاں حواس پہنچیں نہ خِرد کو ہے رسائی
نہ مکیں ہے نے مکاں ہے نہ زمیں ہے نے زماں ہے
دل بے نوا نے میرے جہاں چھاؤنی ہے چھائی
نہ وصال ہے نہ ہجراں نہ سرور ہے نہ غم ہے
جسے کہیۓ خوابِ غفلت سو وہ نیند ہم کو آئی
من و تو اٹھے جہاں ہوں ہوسیں وہاں کہاں ہوں
جو دوئی کے تھے لوازم سو رہائی ان سے پائی
یہاں میں رہا ہوں جب تو سخنِ نیازؔ بولوں
سنو گے زبانِ نے سے وہی جو کہے گا نائی

شاہ نیاز بریلوی 

4 comments:

  1. انتہائی خوبصورت کلام کیا کہنے

    ReplyDelete
  2. ماشااللہ سبحان اللہ

    ReplyDelete
  3. واہ بہت خوب
    عابدہ پروین کی زبان سے اور بھی خوبصورت ہو گئی ہے۔

    ReplyDelete
  4. واہ۔۔ ہمیشہ سے ہی خمار آگیں

    ReplyDelete