Wednesday, 14 December 2016

ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے

ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ غم کچھ نہیں کہتے
یوں ہے کہ تِرے سامنے ہم کچھ نہیں کہتے
واپس چلے آتے ہیں یونہی دامنِ دل تک
کچھ اشک سرِ دیدۂ نم کچھ نہیں کہتے
میں شام سے تا صبح جو پھرتا ہوں بھنور سا
اِس باب میں اربابِ کرم کچھ نہیں کہتے
اپنے لیے اِک درجہ بنا رکھا ہے ہم نے
میعار ہے، میعار سے کم کچھ نہیں کہتے
ہونا بھی نہ ہونا ہے تو کس بات کا رونا
اختؔر مجھے موجود و عدم کچھ نہیں کہتے

اختر عثمان

No comments:

Post a Comment