Saturday, 10 December 2016

پرانا دن ہی اگلا ہے نیا کیا ہے

پرانا دن ہی اگلا ہے، نیا کیا ہے
شمارِ سال بدلا ہے، نیا کیا ہے
وہی کائی، وہی ٹھہرا ہوا پان
وہی تالاب گدلا ہے، نیا کیا ہے
نگاہوں میں رکا ہے ایک ہی منظر
وہی کھاڑی ہے، بگلا ہے، نیا کیا ہے
وہی کونپل، وہی خواہش پنپنے کی
وہی رنگیں گملا ہے، نیا کیا ہے؟
وہی بنسری، وہی تانیں گڈریے کی
وہی بھیڑوں کا گَلہ ہے، نیا کیا ہے؟
وہی اک دن کی دوری ہے، وہی جھیلیں
وہی مسدود رستہ ہے، نیا کیا ہے؟

خالد اقبال یاسر

No comments:

Post a Comment