Saturday, 10 December 2016

لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں

لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں
مر کے بھی سانس لینے کی عادت گئی نہیں 
شاید کہ رچ گئی ہے ہمارے خمیر میں
سو بار صلح پر بھی عداوت گئی نہیں
رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوشگوار یاد
تجھ سے بچھڑ کے تیری رفاقت گئی نہیں
باقی ہے ریزے ریزے میں اک ارتباط سا
یاسؔر بکھر کے بھی میری وحدت گئی نہیں

خالد اقبال یاسر

No comments:

Post a Comment