لگتا ہے زندہ رہنے کی حسرت گئی نہیں
مر کے بھی سانس لینے کی عادت گئی نہیں
شاید کہ رچ گئی ہے ہمارے خمیر میں
سو بار صلح پر بھی عداوت گئی نہیں
رہتی ہے ساتھ ساتھ کوئی خوشگوار یاد
باقی ہے ریزے ریزے میں اک ارتباط سا
یاسؔر بکھر کے بھی میری وحدت گئی نہیں
خالد اقبال یاسر
No comments:
Post a Comment