اک تعلق جسے سادہ نہیں لکھا جاتا
ایک رشتہ جسے رشتہ نہیں لکھا جاتا
منتظر ہو گی مِرے دیر سے گھر آنے ہر
چشمِ بیدار کو خفتہ نہیں لکھا جاتا
وہ یہیں ہے اسی دالان اسی کمرے میں
اوٹ ہے اس کی دعاؤں کی میسر اب بھی
ہمہ موجود کو رفتہ نہیں لکھا جاتا
اسکی آغوشِ سکوں بخش میں گزرے جو دن
ان کو ایامِ گزشتہ نہیں لکھا جاتا
رتبہ انساں سے زیادہ ہو گر انسانوں میں
ایسے انساں کو فرشتہ نہیں لکھا جاتا
دل جو بھر آئے تو لکھا نہیں جاتا یاسرؔ
اور لکھوں تو زیادہ نہیں لکھا جاتا
خالد اقبال یاسر
No comments:
Post a Comment