Saturday, 10 December 2016

اک تعلق جسے سادہ نہیں لکھا جاتا

اک تعلق جسے سادہ نہیں لکھا جاتا
ایک رشتہ جسے رشتہ نہیں لکھا جاتا
منتظر ہو گی مِرے دیر سے گھر آنے ہر
چشمِ بیدار کو خفتہ نہیں لکھا جاتا
وہ یہیں ہے اسی دالان اسی کمرے میں
کوئی زندہ ہو تو مردہ نہیں لکھا جاتا
اوٹ ہے اس کی دعاؤں کی میسر اب بھی
ہمہ موجود کو رفتہ نہیں لکھا جاتا
اسکی آغوشِ سکوں بخش میں گزرے جو دن
ان کو ایامِ گزشتہ نہیں لکھا جاتا
رتبہ انساں سے زیادہ ہو گر انسانوں میں
ایسے انساں کو فرشتہ نہیں لکھا جاتا
دل جو بھر آئے تو لکھا نہیں جاتا یاسرؔ 
اور لکھوں تو زیادہ نہیں لکھا جاتا

خالد اقبال یاسر

No comments:

Post a Comment