Thursday, 5 January 2017

جب جب رات کا آنچل بھیگے

جب جب رات کا آنچل بھیگے
یاد کا سُونا جنگل بھیگے
دکھ کے پیڑ پہ تیرے میرے
نینوں کی اک کوئل بھیگے
سب کی یخ بستہ بارش میں
سڑکوں پر اک پاگل بھیگے
رقص گہوں میں چاند ڈھلے تو
درد کی لَے میں پائل بھیگے
کبھی کبھی تو بے موسم بھی
پیاسے صحرا جل تھل بھیگے

عدیم ہاشمی

No comments:

Post a Comment