Monday, 12 October 2020

سایہ کرنے لگا ہے سفر دھوپ میں

 اور کچھ دور پر تان کر دھوپ میں

سایہ کرنے لگا ہے سفر دھوپ میں

میں مسافر نوازوں کا مارا ہوا

بیج بوتا رہا عمر بھر دھوپ میں

ایک دیوار پرچھائیاں کھا گئی

ہم بھٹکتے رہے دربدر دھوپ میں

اس نے اپنے لیے چاندنی کھینچ لی

اور مجھ سے کہا، عیش کر دھوپ میں

اوس ہے یا گہر خود ہی کھل جائے گا

ہم نے رکھ دی متاعِ ہنر دھوپ میں

ایک دریا تھا بہتا رہا سامنے

تشنگی کو نہ آیا نظر دھوپ میں

ہم کہ سورج زمیں پر لگاتے رہے

آخرش جل گئے بال و پر دھوپ میں

اے مظفر یہ مقطع ردیفوں میں ہے

بس اسی آنچ کی تھی کسر دھوپ میں


مظفر حنفی

No comments:

Post a Comment