Monday, 12 October 2020

وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا

 وہ جو اک شرط تھی وحشت کی اٹھا دی گئی کیا

میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا

وہی لہجہ ہے مگر یار تِرے لفظوں میں 

پہلے اک آگ سی جلتی تھی بجھا دی گئی کیا

جو بڑھی تھی کہ کہیں مجھ کو بہا کر لے جائے

میں یہیں ہوں تو وہی موج بہا دی گئی کیا

پاوں میں خاک کی زنجیر بھلی لگنے لگی

پھر میری قید کی معیاد بڑھا دی گئی کیا

دیر سے پہنچے ہیں ہم دور سے آئے ہوئے لوگ 

شہر خاموش ہے، سب خاک اڑا دی گئی کیا


عرفان صدیقی

No comments:

Post a Comment