وقت کو تب میں تیری رفتار کہا کرتا تھا
جب تیرے پیار کو ہی پیار کہا کرتا تھا
تیرے ہونے سے سمجھتا تھا کہ دنیا تم ہو
ویسے دنیا کو میں بے کار کہا کرتا تھا
تب میں بچھڑے ہوئے لوگوں پہ بھی ہنس دیتا تھا
تب میں ان کو بھی گناہگار کہا کرتا تھا
تم سے بچھڑا ہوں تو رویا ہوں وگرنہ کل تک
رونے والوں کو بھی فنکار کہا کرتا تھا
ہم شکل ہے یا وہی ہے میرا دشمن دیکھو
ایسے اک شخص کو میں یار کہا کرتا تھا
خلیل الرحمان قمر
No comments:
Post a Comment