Wednesday, 14 October 2020

یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاں

 یہ زندگی ہے کہ آسیب کا سفر ہے میاں

چراغ لے کے نکلنا بڑا ہنر ہے میاں

پتہ چلے جو محبت کا درد لے کے چلو

مِرے مکاں کی گلی کتنی مختصر ہے میاں

نہائیں گی مِری ضو میں ہزار ہا صدیاں

میں وہ چراغ نہیں ہوں جو رات بھر ہے میاں

تمہاری رات پہ اتنا ہی تبصرہ ہے بہت

مکیں اندھیرے میں ہیں چاندنی میں گھر ہے میاں

لکھا ہے وقت نے صدیوں سفر کے بعد اسے

یہ دور جھوٹ سہی پھر بھی معتبر ہے میاں

ملے گی راکھ نہ تم کو ہمارے چہرے پر

بدن میں رہ کے سلگنا بڑا ہنر ہے میاں

اب انتظار کی طاقت نہیں رہی قیصر

کچھ اور روز نہ سوچا تو سب کھنڈر ہے میاں


قیصر الجعفری

No comments:

Post a Comment