Wednesday, 14 October 2020

وہ شخص دو کو ہمیشہ ہی تین کہتا ہے

وہ شخص دو کو ہمیشہ ہی تین کہتا ہے 

کمال یہ بھی ہے خود کو ذہین کہتا ہے 

کہیں جو سچ تو ہے ممکن زبان ساتھ نہ دے 

مگر وہ جھوٹ بہت بہترین کہتا ہے 

ہے ٹوٹنا اسے اک دن ضرور ٹوٹے گا 

گمان ہے یہ جسے تُو "یقین" کہتا ہے 

یہ بے وقوف بہت لگتی ہے عوام اسے 

تبھی تو روز ہی جملے "نوین" کہتا ہے 

کرو کسی سے بھی مذہب کے نام پر نفرت 

بتائے کوئی ہمیں کون دین کہتا ہے 

ہنر بھی خوب تجارت کا دیکھیے صاحب 

سڑے ہوئے کو وہ "تازہ ترین" کہتا ہے 

برائی کرتا ہے میری وہ پیٹھ پیچھے بھلے 

ہر ایک شعر پہ تو "آفرین" کہتا ہے 

یہ لفظ آتے ہیں دیدار حسن کا کرکے 

غزل انیس! تبھی تو حسین کہتا ہے 


انیس شاہ​​

No comments:

Post a Comment