وہ شخص دو کو ہمیشہ ہی تین کہتا ہے
کمال یہ بھی ہے خود کو ذہین کہتا ہے
کہیں جو سچ تو ہے ممکن زبان ساتھ نہ دے
مگر وہ جھوٹ بہت بہترین کہتا ہے
ہے ٹوٹنا اسے اک دن ضرور ٹوٹے گا
گمان ہے یہ جسے تُو "یقین" کہتا ہے
یہ بے وقوف بہت لگتی ہے عوام اسے
تبھی تو روز ہی جملے "نوین" کہتا ہے
کرو کسی سے بھی مذہب کے نام پر نفرت
بتائے کوئی ہمیں کون دین کہتا ہے
ہنر بھی خوب تجارت کا دیکھیے صاحب
سڑے ہوئے کو وہ "تازہ ترین" کہتا ہے
برائی کرتا ہے میری وہ پیٹھ پیچھے بھلے
ہر ایک شعر پہ تو "آفرین" کہتا ہے
یہ لفظ آتے ہیں دیدار حسن کا کرکے
غزل انیس! تبھی تو حسین کہتا ہے
انیس شاہ
No comments:
Post a Comment