Saturday, 10 October 2020

کوئلیں پھر بھولے بسرے غم جگانے آ گئیں

 کوئلیں پھر بھولے بسرے غم جگانے آ گئیں

گرمیاں لے کر اسی کے خزانے آ گئیں

ٹھنڈے دالانوں میں پھر کھلنے لگی دل کی کتاب

جلتی دوپہریں مرا پردہ گرانے آ گئیں

ڈھگ گئیں پھر صندلیں شاخیں سنہری بُور سے

لڑکیاں دھانی دوپٹے سر پہ تانے آ گئیں

پھر دھنک کے رنگ بازاروں میں لہرانے لگے

تتلیاں معصوم بچوں کو رجھانے آ گئیں

کھل رہے ہوں گے چھتوں پر سانولی شاموں کے بال

کتنی یادیں ہم کو گھر واپس بلانے آ گئیں

دھول سے کب تک کوئی شفاف جذبوں کو بچائے

خواہشوں کی آندھیاں پھر خاک اُڑانے آ گئیں​

عرفان صدیقی​

No comments:

Post a Comment