کوئلیں پھر بھولے بسرے غم جگانے آ گئیں
گرمیاں لے کر اسی کے خزانے آ گئیں
ٹھنڈے دالانوں میں پھر کھلنے لگی دل کی کتاب
جلتی دوپہریں مرا پردہ گرانے آ گئیں
ڈھگ گئیں پھر صندلیں شاخیں سنہری بُور سے
لڑکیاں دھانی دوپٹے سر پہ تانے آ گئیں
پھر دھنک کے رنگ بازاروں میں لہرانے لگے
تتلیاں معصوم بچوں کو رجھانے آ گئیں
کھل رہے ہوں گے چھتوں پر سانولی شاموں کے بال
کتنی یادیں ہم کو گھر واپس بلانے آ گئیں
دھول سے کب تک کوئی شفاف جذبوں کو بچائے
خواہشوں کی آندھیاں پھر خاک اُڑانے آ گئیں
عرفان صدیقی
No comments:
Post a Comment