Sunday, 4 October 2020

اگر ایک پل کو کہیں مل سکو تو

 اگر مل سکو تو


زمانوں سے کھوئی ہوئی ہجر کی منزلوں میں

مری زندگی کے پریشاں نظر راستوں میں

کہیں ایک پل کو ملو تو

مجھے تم سے یہ پوچھنا ہے

کہ دریاؤں کا رخ بدلتے سنا تھا

سمندر نے رستے بدلنا بھلا کب سے سیکھا

ہواؤں کے پیچاک میں

پربتوں نے الجھنا بھلا کب سے سیکھا

زمین اور زہرہ، عطارد، زحل، مشتری اور مریخ

سورج کے محور پہ چلتے ہیں

چلتے رہیں گے، مگر

کوئی سورج بھی گدلی زمینوں کے

ٹوٹے ہوئے سرد ٹکڑوں کے محور پہ چلتا ہے

یہ سانحہ، کائناتوں کی تقویم میں کب لکھا ہے

یہی واقعہ ہے

ہوا نے، فضا نے، زمانے نے، دنیا کے ہر تجربے نے بتایا

غلط ہے، عبث ہے، خطا ہے

یہ خوش فہم نظروں کا دھوکا

تمنائے دل کا فریب اور پیاسے بدن کی صدا ہے

مگر کس نے سمجھا؟ مگر کس نے مانا؟

ازل سے یہی تو ہوا ہے

ابد تک یہی ہونے والا ہے

رستہ ہی منزل ہے

منزل بھی دراصل اک راستہ ہے

سو غم ہی خوشی ہے

خوشی میں بھی غم ہی چھپا ہے

سفر ہے، سفر ہے، سفر ہے

ازل سے ابد تک، فنا سے بقا تک

مسافت میں مصروف ارض و سما نے

ستاروں نے، مہتاب نے

گرم پانی نے، ٹھنڈی ہوا نے، بتایا

مگر دل،جو کیوپڈ کے تیروں سے چھلنی تھے

مدہوش تھے، ان کو کب ہوش آیا؟

اگر ہوش آیا، کسی رہگزر میں

تو امید اور ناامیدی کے لمبے سفر میں

ہواؤں کے اور پانیوں کے بھنور میں

بس اک پل رکے

میں سر کو اناؤں سے

پاؤں کو دنیا کے چکر سے آزاد کرنے کی خواہش میں

پلکیں اٹھائی تھیں

غرقاب ہوتے ہوئے

پیار ہے؟' میں نے پوچھا تھا'

نہ' تم نے نفی میں سر کو ہلا کر'

کسی ڈوبتے آدمی کی طرح سانس لیتے ہوئے

'بے بسی سے کہا تھا 'نہیں، عشق ہے، عشق

'کیا عشق کو بھی فنا ہے؟'

مجھے بس یہی پوچھنا ہے

اگر ایک پل کو کہیں مل سکو، تو


ثمینہ راجا

No comments:

Post a Comment