Friday, 9 October 2020

یہ مری ضد ہے کہ ملتان نہیں چھوڑوں گی

 یہ مِری ضد ہے کہ ملتان نہیں چھوڑوں گی

مر تو جاؤں گی تِری جان نہیں چھوڑوں گی

عشق لایا تھا مجھے گھیر کے اپنی جانب

اس منافق کا گریبان نہیں چھوڑوں گی

یہ تو ترکہ ہے جو پُرکھوں سے ملا ہے صاحب

دشت کو بے سر و سامان نہیں چھوڑوں گی

یہ نہ ہو سین بدلتے ہی بچھڑ جائے تُو

ہاتھ میں خواب کے دوران نہیں چھوڑوں گی

اب نہ کمزور ہوں میں، اور نہ ڈرنے والی

دشمنا! ہار کے میدان نہیں چھوڑوں گی

اے خوشی پھر تُو صدا دے کے کہیں چھپ گئی ہے

ہاتھ تو لگ، میں ترے کان نہیں چھوڑوں گی

صرف اس بار اگر وصل عطا ہو جائے

آئندہ ہجر کا امکان نہیں چھوڑوں گی


کومل جوئیہ

No comments:

Post a Comment