Friday, 9 October 2020

بعد مدت کے کتابوں سے نکل آئے ہو

 بعد مدت کے کتابوں سے نکل آئے ہو

سوکھے خوابیدہ گلابوں سے نکل آئے ہو

یونہی سامان پرانے پہ نظر جا ٹھہری

پھر سے تم بند لفافوں سے نکل آئے ہو

کیا یہ زنجیر، یہ زندان، کڑے پہرے کریں

روشنی بن کے کواڑوں سے نکل آئے ہو

تم جو ہر آن یونہی رہتے ہو ہنستے بستے

کیا محبت کے عتابوں سے نکل آئے ہو؟

کس قدر سادگی ہے، سانس بھی تم لیتے ہو

اور سمجھتے ہو عذابوں سے نکل آئے ہو

اب طلب ہے نہ تجسس نہ ہے وہ عہدِ وفا

تم غلط سوچ، ارادوں سے نکل آئے ہو

وقت گزرا نہیں لوٹے گا سو بےکار ہی تم

بدگمانی کی پناہوں سے نکل آئے ہو

ایک جو چپ سی لگی ہے تمہیں تازہ ابرک

تھک گئے ہو یا سوالوں سے نکل آئے ہو؟


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment