پھلنے، بڑھنے لگے ہیں صاحبِ زر اور بھی
تنگ ہو جائے گی دھرتی مفلسوں پر اور بھی
یہ زمیں زرخیز ہو گی خون پی کر اور بھی
کھیتیاں اگلا کریں گی لعل و گوہر اور بھی
ہر زمانے میں ثبوت عشق مانگا جائے گا
لال ماؤں کے چڑھیں گے سولیوں پر اور بھی
آفتاب ابھرا ہے جس دن سے نئی تہذیب کا
ہو گیا تاریک انساں کا مقدر اور بھی
جب چلی تحریک تعمیرِ وطن کی دوستو
ہو گئے برباد کچھ بستے ہوئے گھر اور بھی
جس قدر باہر کی رونق میں مگن ہوتا گیا
بڑھ گئی ہے رونقی انساں کے اندر اور بھی
بستیوں پر حادثوں کی چاند ماری کے لیے
بڑھ رہے ہیں روح کی جانب ستمگر اور بھی
ناز خیالوی
No comments:
Post a Comment