دیکھے ہی نہیں وہ لب و رخسار وہ گیسُو
بس ایک کھنکتی ہوئی آواز کا جادو
حیران و پریشاں لیے پھرتا ہے بہر سو
پابندِ تصور نہیں وہ جلوۂ بے تاب
ہو دور تو جگنو ہے قریب آئے تو خوشبو
لہرائے تو شعلہ ہے چھنک جائے تو گھنگرو
باندھے ہیں نگاہوں نے صداؤں کے بھی منظر
وہ قہقہے جیسے بھری برسات میں کُو کُو
جیسے کوئی قمری سرِ شمشاد لبِ جُو
اے دل تِری باتوں پہ کہاں تک کوئی جائے
جذبات کی دنیا میں کہاں سوچ کے پہلو
کب آئے ہیں فتراک میں وحشت زدہ آہُو
مانا کہ وہ لب ہوں گے شفق رنگ و شرر خُو
شاید کہ وہ عارض ہوں گلِ تر سے بھی خوشرو
دل کش ہی سہی حلقۂ زلف و خمِ ابرو
یہ کس کو خبر کس کا مقدر ہے یہ سب کچھ
خوابوں کی گھٹا دور برس جائے گی اور تُو
لوٹ آئے گا لے کر فقط آہیں فقط آنسو
احمد فراز
No comments:
Post a Comment