Thursday, 8 October 2020

کس شہر نہ شہرہ ہوا نادانی دل کا

 کس شہر نہ شہرہ ہوا نادانئ دل کا

کس پر نہ کھلا راز پریشانئ دل کا

آؤ کریں محفل پہ زر زخم نمایاں

چرچا ہے بہت بے سروسامانئ دل کا

دیکھ آئیں چلو کوئے نگاراں کا خرابہ

شاید کوئی محرم ملے ویرانئ دل کا

پوچھو تو ادھر تیر فگن کون ہے یارو

سونپا تھا جسے کام نگہبانئ دل کا

دیکھو تو کدھر آج رخ باد صبا ہے

کس رہ سے پیام آیا ہے زندانئ دل کا

اترے تھے کبھی فیض وہ آئینۂ دل میں

عالم ہے وہی آج بھی حیرانئ دل کا


فیض احمد فیض

No comments:

Post a Comment