Sunday, 4 October 2020

زلف ساقی جو پریشان ہوئی شانے پر

 زلفِ ساقی جو پریشان ہوئی شانے پر

چھا گئی کالی گھٹا جھوم کے مےخانے پر

چھا گیا رنگِ جنوں عشق کے افسانے پر

ساری دنیا کی نظر ہے ترے دیوانے پر

جلوہ دکھلا کے تو خود چھین لے ہوش و حوس

اب ہر اک بات کہے دیتے ہو دیوانے پر

اس کی توبہ کو بھلا کون بچائے ساقی

جس کی نظریں ہوں چھلکتے ہوئے پیمانے پر

آسماں لاکھ گراتا رہے بجلی، لیکن

آشیاں ہم بھی بنائیں گے بہار آنے پر

مست و بے خود ہی رہوں ہوش نہ آئے مجھ کو

اک نظر ڈال دے ایسی مرے پیمانے پر

اے فنا بعد مرے یاد کرے گی دنیا

قدر انسان ہوا کرتی ہے مر جانے پر​


فنا بلند شہری​

No comments:

Post a Comment