Sunday, 11 October 2020

درویش صفت میرے

 درویش صفت میرے

برباد طبیعت میں

انبار اداسی کے

ایسے ہیں لگے جیسے

شہتوت کے پیڑوں پر

شہتوت لٹکتے ہیں

یہ روح دریدہ ہے

بکھری ہوئی سوچیں ہیں

مرہم کی ضرورت ہے

مرہم تو لگا جاؤ

ہر سوچ سلجھ جائے

پیوند لگا جاؤ

یہ روح بھی تیری ہے

ہر زخم تمہارا ہے

اے حرفِ سکوں میرے

درویش صفت میرے


زین شکیل

No comments:

Post a Comment