Monday, 5 October 2020

ایک منظر نامہ

 ایک منظر نامہ

میں

رات کی چادر میں منہ چھپائے

گم صم پڑی ہوں

اداسی کھڑکی سے جھانک رہی ہے

دھند میں لپٹا اک خواب

آنکھ کے اندر لرزاں ہے

تنہائی خاموش، دم سادھے

اِدھر اُدھر ٹہل رہی ہے

نیند کے نیلے شگوفے

بے چینی سے ہم کلام ہیں

اور چاند

چاند اِن سب کی تھکن اوڑھے

مضمحل اعصاب کے ساتھ

سرمئی بدلی کے سینے پر سر رکھے

سو چکا ہے


نجمہ منصور

No comments:

Post a Comment