ایک منظر نامہ
میں
رات کی چادر میں منہ چھپائے
گم صم پڑی ہوں
اداسی کھڑکی سے جھانک رہی ہے
دھند میں لپٹا اک خواب
آنکھ کے اندر لرزاں ہے
تنہائی خاموش، دم سادھے
اِدھر اُدھر ٹہل رہی ہے
نیند کے نیلے شگوفے
بے چینی سے ہم کلام ہیں
اور چاند
چاند اِن سب کی تھکن اوڑھے
مضمحل اعصاب کے ساتھ
سرمئی بدلی کے سینے پر سر رکھے
سو چکا ہے
نجمہ منصور
No comments:
Post a Comment