Monday, 5 October 2020

اندھا سچ

 اندھا سچ


اندھیری جونپڑیوں سے

قطار در قطار نکلتے

چیتھڑوں میں لپٹے بچے

ٹھٹھرتی دلدلی سڑکوں پر

ناچتے گاتے پھرتے ہیں

مگر کسے معلوم کہ

نہ جانے کب کوئی اندھی گولی آئے یا بم پھٹے

اور وہ

گوشت کے لوتھڑوں اور ہڈیوں کا ڈھیر بن جائیں

کوئی نہیں جانتا

میں بھی نہیں

تم بھی نہیں

وہ بھی نہیں


نجمہ منصور

No comments:

Post a Comment