اندھا سچ
اندھیری جونپڑیوں سے
قطار در قطار نکلتے
چیتھڑوں میں لپٹے بچے
ٹھٹھرتی دلدلی سڑکوں پر
ناچتے گاتے پھرتے ہیں
مگر کسے معلوم کہ
نہ جانے کب کوئی اندھی گولی آئے یا بم پھٹے
اور وہ
گوشت کے لوتھڑوں اور ہڈیوں کا ڈھیر بن جائیں
کوئی نہیں جانتا
میں بھی نہیں
تم بھی نہیں
وہ بھی نہیں
نجمہ منصور
No comments:
Post a Comment