Monday, 5 October 2020

موسم آتے جاتے ہیں

 یاد کہانی


موسم آتے جاتے ہیں

مگر یاد کا موسم نہیں گزرتا

عین دل کے اوپر کہیں ٹھہر جاتا ہے

میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا

جب پرانی شکلیں نئی شکلوں میں نظر آنے لگیں

تو پرانی یادیں نئے جیون کے ساتھ سفر کرنے لگتی ہیں

مجھے لگتا ہے شاید تم بھی

ایسی ہی کسی یاد کا چہرہ ہوا

سانولی یاد کا

جو میرے قریب آ گیا ہے

کہ پرانی یادیں مٹنے لگی ہیں

تم سے جدائی کا موسم مجھے اداس کرنے لگا ہے

تمہیں معلوم ہے

تمہارے ساتھ بیتے دن بھلانے کے لیے

میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی ہوں

نظمیں لکھتی ہوں، شعر کہتی ہوں اور

کتابوں میں اپنا آپ گم کر لیتی ہوں

مگر دل پر ایسی تنہائی گزرتی ہے کہ

یاد کی اگر بتیاں آپ ہی آپ

سلگ اٹھتی ہیں

جن کی خوشبو میرے چاروں اور پھیل جاتی ہے

دور دور تک

اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی

اس دھیمی سی خوشبو کے ساتھ

سفر کرنے لگتی ہوں


نجمہ منصور

No comments:

Post a Comment