یاد کہانی
موسم آتے جاتے ہیں
مگر یاد کا موسم نہیں گزرتا
عین دل کے اوپر کہیں ٹھہر جاتا ہے
میں نے کسی کتاب میں پڑھا تھا
جب پرانی شکلیں نئی شکلوں میں نظر آنے لگیں
تو پرانی یادیں نئے جیون کے ساتھ سفر کرنے لگتی ہیں
مجھے لگتا ہے شاید تم بھی
ایسی ہی کسی یاد کا چہرہ ہوا
سانولی یاد کا
جو میرے قریب آ گیا ہے
کہ پرانی یادیں مٹنے لگی ہیں
تم سے جدائی کا موسم مجھے اداس کرنے لگا ہے
تمہیں معلوم ہے
تمہارے ساتھ بیتے دن بھلانے کے لیے
میں خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتی ہوں
نظمیں لکھتی ہوں، شعر کہتی ہوں اور
کتابوں میں اپنا آپ گم کر لیتی ہوں
مگر دل پر ایسی تنہائی گزرتی ہے کہ
یاد کی اگر بتیاں آپ ہی آپ
سلگ اٹھتی ہیں
جن کی خوشبو میرے چاروں اور پھیل جاتی ہے
دور دور تک
اور میں نہ چاہتے ہوئے بھی
اس دھیمی سی خوشبو کے ساتھ
سفر کرنے لگتی ہوں
نجمہ منصور
No comments:
Post a Comment