اور مسافر مر جاتے ہیں
نام لکھے رہ جاتے ہیں دیواروں پر
دروازوں پر
خواہش رقص لہو میں کرتی ہے
خواب آنکھوں کے تالابوں سے
رات کے پہلے پہر میں ہجرت کر جاتے ہیں
دھوپ کے دشت میں سارا دن
تقدیر کمانے والے لوگ
شام ڈھلے تو ڈر جاتے ہیں
دن نکلے تو ڈر جاتے ہیں
ڈر جاتے ہیں اپنی ہاتھ لکیروں سے
جو سانپوں سی بَل کھاتی ہیں
رستہ رستہ سوئی گھاس کی خاموشی سے
خاموشی میں ڈوبی رات کی ویرانی سے
برف ایسی حیرانی سے
ہجر کے دور دراز کو جاتے رستوں کی طولانی سے
ڈر جاتے ہیں
عکس دمکتے رہ جاتے ہیں صحرا کے ہر ذرے میں
اور مسافر مر جاتے ہیں
فہیم شناس کاظمی
No comments:
Post a Comment