Monday, 5 October 2020

اور مسافر مر جاتے ہیں

 اور مسافر مر جاتے ہیں

نام لکھے رہ جاتے ہیں دیواروں پر

دروازوں پر

خواہش رقص لہو میں کرتی ہے

خواب آنکھوں کے تالابوں سے

رات کے پہلے پہر میں ہجرت کر جاتے ہیں

دھوپ کے دشت میں سارا دن

تقدیر کمانے والے لوگ

شام ڈھلے تو ڈر جاتے ہیں

دن نکلے تو ڈر جاتے ہیں

ڈر جاتے ہیں اپنی ہاتھ لکیروں سے

جو سانپوں سی بَل کھاتی ہیں

رستہ رستہ سوئی گھاس کی خاموشی سے

خاموشی میں ڈوبی رات کی ویرانی سے

برف ایسی حیرانی سے

ہجر کے دور دراز کو جاتے رستوں کی طولانی سے

ڈر جاتے ہیں

عکس دمکتے رہ جاتے ہیں صحرا کے ہر ذرے میں

اور مسافر مر جاتے ہیں


فہیم شناس کاظمی

No comments:

Post a Comment