Friday, 8 January 2021

ہم کہانی ہوئے ان گئے موسموں کی

 سمے کی کھرچن


ہم کہانی ہوئے

ان گئے موسموں کی کہانی جنہیں

زندگی نے نصابوں سے خارج کیا

وہ روادار موسم کہ جن کے بدن

٭کِبر کی دھوپ میں

آبنوسی ہوئے

جن کی آنکھوں میں جلتے ہوئے طاقچے

بے یقین راستوں میں قنوطی ہوئے

اب کہاں جائیں ہم

راستوں کی پُر پیچ لمبی گلی میں

کوئی راہداری ہماری نہیں

کسی زرد موسم کی چوکھٹ پہ ہم نے

کوئی سبز خواہش اتاری نہیں

ہم کہاں جائیں بوڑھی جوانی لیے

اور اٹکی ہوئی سانس والی

زباں کی روانی لیے

جو سوالوں کی دستک کو سنتی نہیں

اور پرچھائیوں سے گزاری گئی

تھپکیوں کا وظیفہ بدلتی نہیں

ہم جو موجود ہیں

آنجہانی ہوئے

وقت کی ریت میں دفن ہوتی ہوئی

ایک ندی کی آنکھوں کا پانی ہوئے

ہم کہانی ہوئے


حسین مجروح


٭ کِبر= تکبر، خودپسندی، خودپرستی

No comments:

Post a Comment