سمے کی کھرچن
ہم کہانی ہوئے
ان گئے موسموں کی کہانی جنہیں
زندگی نے نصابوں سے خارج کیا
وہ روادار موسم کہ جن کے بدن
٭کِبر کی دھوپ میں
آبنوسی ہوئے
جن کی آنکھوں میں جلتے ہوئے طاقچے
بے یقین راستوں میں قنوطی ہوئے
اب کہاں جائیں ہم
راستوں کی پُر پیچ لمبی گلی میں
کوئی راہداری ہماری نہیں
کسی زرد موسم کی چوکھٹ پہ ہم نے
کوئی سبز خواہش اتاری نہیں
ہم کہاں جائیں بوڑھی جوانی لیے
اور اٹکی ہوئی سانس والی
زباں کی روانی لیے
جو سوالوں کی دستک کو سنتی نہیں
اور پرچھائیوں سے گزاری گئی
تھپکیوں کا وظیفہ بدلتی نہیں
ہم جو موجود ہیں
آنجہانی ہوئے
وقت کی ریت میں دفن ہوتی ہوئی
ایک ندی کی آنکھوں کا پانی ہوئے
ہم کہانی ہوئے
حسین مجروح
٭ کِبر= تکبر، خودپسندی، خودپرستی
No comments:
Post a Comment