ان سے ہم لو لگائے بیٹھے ہیں
آگ دل میں دبائے بیٹھے ہیں
وہ جو گردن جھکائے بیٹھے ہیں
حشر کیا کیا اٹھائے بیٹھے ہیں
تِرے کوچے کے بیٹھنے والے
اپنی ہستی مٹائے بیٹھے ہیں
زورِ بَل اف رے اس نزاکت پر
خلق کا دل دُکھائے بیٹھے ہیں
کیوں اٹھے ان کی بزم سے اغیار
رنگ اپنا جمائے بیٹھے ہیں
کچھ نہیں خاکِ دشتِ الفت میں
ہم بہت خاک اڑائے بیٹھےہیں
ہم نہیں آپ میں خوشی سے وہ
گھر میں مہمان آئے بیٹھے ہیں
کیوں نہ پھیلائیں پاؤں بزم میں غیر
آپ کے سر چڑھائے بیٹھے ہیں
جنگجو وہ ملاپ میں بھی رہے
مجھ سے آنکھیں لڑائے بیٹھے ہیں
دل کے کھوٹے ہیں سب یہ سیم اندام
خوب ہم آزمائے بیٹھے ہیں
حسن نظارہ، سوز ہے پردہ
گو وہ پردہ اٹھائے بیٹھے ہیں
جیتے ہیں نام کو وگرنہ ہم
عشق میں جی کھپائے بیٹھے ہیں
بار دیکھا بھی خون عاشق کا
آپ اور سر جھکائے بیٹھے ہیں
کیونکہ بگڑا ہوا انہیں کہیئے
بگڑے اور منہ بنائے بیٹھے ہیں
جی چرانا اور اس پہ ہائے ستم
آپ آنکھیں چرائے بیٹھے ہیں
شرم بھی اک طرح کی چوری ہے
وہ بدن کو چرائے بیٹھے ہیں
غیر باتوں سے اور ہم آنکھوں سے
ایک طوفان اٹھائے بیٹھے ہیں
تجھ سے دل کا غبار مٹ نہ سکا
اپنے کو ہم مٹائے بیٹھے ہیں
ہے یہ روشن کہ ہے حجاب میں چاند
آپ کیا منہ چھپائے بیٹھے ہیں
ہے جہاں اس سے فیض یاب انور
جس کے در پر ہم آئے بیٹھے ہیں
انور دہلوی
No comments:
Post a Comment