وقت کی تپتی ردا پر عقل کا فرمان لکھ
ہے اگر شیطان تو شیطان کو انسان لکھ
دوست ڈاکو بن کے آئے اور تُو پہچان لے
دوستی کا ہے تقاضا اس کو تُو انجان لکھ
روٹیاں ملتی ہیں جس سے اور وہ بھوکا رہے
عہدِ حاضر میں اسے تو ہند کا دہقان لکھ
دشمنِ جانی بھی گھر پر گر تِرے آ جائے کل
یہ تِرا اخلاق کہتا ہے اسے مہمان لکھ
ابتدا ہی اتنا کی شکل ہے اِک دوسری
خامشی گر دیرپا ہو اس کو تُو طوفان لکھ
ہیں نظر میں تیری نسریں اور کے عیب و ہنر
تُو ہے کیا، پہچان خود کو اپنی تُو پہچان لکھ
نسرین نقاش
No comments:
Post a Comment