Saturday, 9 January 2021

وقت کی تپتی ردا پر عقل کا فرمان لکھ

 وقت کی تپتی ردا پر عقل کا فرمان لکھ 

ہے اگر شیطان تو شیطان کو انسان لکھ

دوست ڈاکو بن کے آئے اور تُو پہچان لے

دوستی کا ہے تقاضا اس کو تُو انجان لکھ

روٹیاں ملتی ہیں جس سے اور وہ بھوکا رہے

عہدِ حاضر میں اسے تو ہند کا دہقان لکھ

دشمنِ جانی بھی گھر پر گر تِرے آ جائے کل

یہ تِرا اخلاق کہتا ہے اسے مہمان لکھ

ابتدا ہی اتنا کی شکل ہے اِک دوسری

خامشی گر دیرپا ہو اس کو تُو طوفان لکھ

ہیں نظر میں تیری نسریں اور کے عیب و ہنر

تُو ہے کیا، پہچان خود کو اپنی تُو پہچان لکھ


نسرین نقاش

No comments:

Post a Comment