Saturday, 9 January 2021

پردیس کا شہر

 پردیس کا شہر


یہ سرمئی بادلوں کے سائے

یہ شام کی تازہ تازہ سی رت

یہ گاڑیوں کی کئی قطاریں

یہ باغ میں سیر کرتے جوڑے

یہ بچوں کے قہقہے سُریلے

وہ دور سے کُوکتی کوئیلیا

یہ عکس پانی میں بجلیوں کا

چہار جانب ہے شادمانی

مگر میں ہوں بے قرار مضطر

نہیں ہے اس شہر میں مِرا گھر


ترنم ریاض

No comments:

Post a Comment