وہ ایسی پاگل لڑکی تھی
آزاد نظم
جتنی شوخ اور چنچل تھی کچھ پاگل پاگل لگتی تھی
جو خود سے باتیں کرتی تھی پھر خود سے خود لڑ پڑتی تھی
”وہ ایسی پاگل لڑکی تھی“
بیٹھے بیٹھے کھو سا جانا یونہی دور خیالوں میں
پھر اک پھول سجا سا لینا اپنے سر کے بالوں میں
ایسی حرکت کرتے کچھ کچھ دیوانی سی لگتی تھی
”تھی جتنی شوخ اور چنچل سی کچھ پاگل پاگل لگتی تھی“
آنکھوں میں جب غور سے دیکھا سپنوں کا اک دریا تھا
دریا کے بہتے پانی میں اپنوں کا بھی گریہ تھا
اتنے زخم چھپا کے پھر بھی کب وہ گھائل لگتی تھی
”وہ اتنی پاگل لڑکی تھی“
اس نے مجھ سے پیار کیا تھا وہ بھی پہلی بار کیا تھا
وہ میری تھی اور میں اسکا ایسا بھی اقرار کیا تھا
ٹوٹ کے مجھ کو چاہے گی وہ پھر یہ بھی اظہار کیا تھا
من میں اس کے پریم بھرا تھا
تب تو پوجا کرتی تھی
”جتنی شوخ اور چنچل تھی کچھ پاگل پاگل لگتی تھی
خود سے باتیں کرتی تھی اور خود سے خود لڑ پڑتی تھی“
وہ ایسی پاگل لڑکی تھی
عجیب ساجد
No comments:
Post a Comment