Friday, 8 January 2021

مستی گام بھی تھی غفلت انجام کے ساتھ

 مستئ گام بھی تھی غفلتِ انجام کے ساتھ

دو گھڑی کھیل لیے گردشِ ایام کے ساتھ

تشنہ لب رہنے پہ بھی ساکھ تو تھی شان تو تھی

وضعِ رندانہ گئی اک طلبِ جام کے ساتھ

جب سے ہنگامِ سفر اشکوں کے تارے چمکے

تلخیاں ہو گئیں وابستہ ہر اک شام کے ساتھ

اب نہ وہ شورشِ رفتار نہ وہ جوشِ جنوں

ہم کہاں پھنس گئے یارانِ سبک گام کے ساتھ

اڑ چکی ہیں ستم آراؤں کی نیندیں اکثر

آپ سنئے کبھی افسانہ یہ آرام کے ساتھ

اس میں ساقی کا بھی درپردہ اشارہ تو نہیں

آج کچھ رِند بھی تھے واعظِ بدنام کے ساتھ

غیر کی طرح ملے اہلِ حرم اے زیدی

مجھ کو یک گونہ عقیدت جو تھی اصنام کے ساتھ


علی جواد زیدی

No comments:

Post a Comment